ابنا: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کے مون کے ترجمان اسٹیفن دوجاریک نے اقوام متحدہ کے لئے تہران کے نئے نامزد نمائندے ابوطالبی کے بارے میں ایران اور امریکہ کے درمیان اختلاف کو نیا مسئلہ قرار دیا اور ابوطالبی کے لئے ویزا جاری کرنے پر امریکی انکار کے بارے میں کہا کہ سکریٹریٹ کے ساتھ ایرانی نمائندے کے توسط سے کئی بار ٹیلیفونک گفتگو انجام پائی ہے۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی وزارت خارجہ سے کئی رپورٹیں موصول ہوئی ہیں تاہم اب تک کوئی سرکاری خط موصول نہيں ہے۔
البتہ کل بان کی مون کے ترجمان کے بیان کے بعد اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اور نمائندے غلام حسین دھقانی نے اس ادارے کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے نام ایک خط ارسال کرکے ، اقوام متحدہ میں ایران کے نئے سفیر حمید ابوطالبی کے لئے ویزا جاری کئے جانے کے مسئلے میں امریکی حکومت کی جانب سے بے جا رکاوٹوں کا جائزہ لیئے جانے سے متعلق ایک تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ کیا ۔ اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے امریکہ کی جانب سےایران کے منتخب سفیرابوطالبی کو ویزا جاری نہ کر نے کے باقاعدہ اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کا یہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزي ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس غیرقانونی عمل پر احتجاج کے لئے ہر طرح کا ضروری سفارتی اقدام انجام دےگا۔ انیس سو پچھتر کے ویانا کنونشن کی تیسری شق کے مطابق ہر حکومت اقوام متحدہ کے قوانین کےمطابق ایک نمائندہ وفد بھیجنے کا حق رکھتی ہے۔ ان بین الاقوامی معاہدوں کی بنیاد پر اسلامی جمہوریہ ایران ، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور متعلقہ عدالتوں کے ذریعے اقوام متحدہ میں ایران کےنمائندے کےلئے ویزا جاری نہ کرنے کے سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہے ۔
بین الاقوامی قوانین کے ماہرین تاکید کرتے ہيں کہ بین الاقوامی روایات کے برخلاف امریکہ کا یہ اقدام ایک خطرناک بدعت ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اقوام متحدہ کی میزبانی سے حاصل مواقع سے غیرروایتی سیاسی فائدہ اٹھاناچاہتا ہے۔
.......
/169